صحت اور زکوٰۃ

علاج کے لیے زکوٰۃ

صحت بنیادی حق ہے۔ جانیں کہ زکوٰۃ کس طرح غریب مریضوں کا علاج کروا کر زندگیاں بچا سکتی ہے۔

2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ

زندگی بچانا

"اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ [قرآن 5:32]"

اہلیت کی شرائط

1

1. مریض کی ضرورت

مریض کا زکوٰۃ کا مستحق (غریب) ہونا ضروری ہے اور وہ علاج کا خرچ اٹھانے کے قابل نہ ہو۔

2

2. علاج کے اخراجات

زکوٰۃ سے دوائیاں، آپریشن، ہسپتال کا داخلہ اور ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں۔

3

3. ملکیت (تملیک)

زکوٰۃ صرف مریض کے علاج پر خرچ ہونی چاہیے، ہسپتال کی عمارت یا مشینوں کی خریداری پر نہیں۔

زکوٰۃ کیا کور کرتی ہے؟

آپ کی زکوٰۃ ان چیزوں کے لیے دی جا سکتی ہے:

  • جان بچانے والے آپریشن (دل، کینسر)
  • ڈائلیسز اور گردوں کا علاج
  • مہنگی دوائیاں اور ٹیکے
  • ڈاکٹر کی فیس

ہسپتال بمقابلہ مریض

اکثر علماء کا فتویٰ ہے کہ زکوٰۃ سے ہسپتال کی عمارت بنانا، مشینیں خریدنا یا عملے کی تنخواہ دینا جائز نہیں۔ یہ صرف غریب مریض کے براہ راست فائدے (دوا/بل) کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہسپتال کا 'زکوٰۃ فنڈ' الگ ہو۔

بیماروں کی مسیحائی کریں

اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور آج ہی کسی مریض یا قابل اعتماد ادارے کی مدد کریں۔

عام سوالات

Q.کیا شوکت خانم یا انڈس ہسپتال کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

جی ہاں، ان جیسے بڑے ہسپتالوں میں زکوٰۃ کا الگ نظام ہوتا ہے جو صرف غریب مریضوں کے علاج پر خرچ ہوتا ہے۔

Q.کیا ملازمہ کے آپریشن کے لیے زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟

جی ہاں، بالکل۔ اگر وہ افورڈ نہیں کر سکتی تو اس کا بل ادا کرنا زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہے۔

Q.کیا غیر مسلم مریض کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

زکوٰۃ عام طور پر مسلمان مستحقین کے لیے ہے۔ غیر مسلموں کی مدد صدقہ اور خیرات سے کی جا سکتی ہے۔