صحت بنیادی حق ہے۔ جانیں کہ زکوٰۃ کس طرح غریب مریضوں کا علاج کروا کر زندگیاں بچا سکتی ہے۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
"اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ [قرآن 5:32]"
مریض کا زکوٰۃ کا مستحق (غریب) ہونا ضروری ہے اور وہ علاج کا خرچ اٹھانے کے قابل نہ ہو۔
زکوٰۃ سے دوائیاں، آپریشن، ہسپتال کا داخلہ اور ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں۔
زکوٰۃ صرف مریض کے علاج پر خرچ ہونی چاہیے، ہسپتال کی عمارت یا مشینوں کی خریداری پر نہیں۔
آپ کی زکوٰۃ ان چیزوں کے لیے دی جا سکتی ہے:
اکثر علماء کا فتویٰ ہے کہ زکوٰۃ سے ہسپتال کی عمارت بنانا، مشینیں خریدنا یا عملے کی تنخواہ دینا جائز نہیں۔ یہ صرف غریب مریض کے براہ راست فائدے (دوا/بل) کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہسپتال کا 'زکوٰۃ فنڈ' الگ ہو۔
اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور آج ہی کسی مریض یا قابل اعتماد ادارے کی مدد کریں۔
جی ہاں، ان جیسے بڑے ہسپتالوں میں زکوٰۃ کا الگ نظام ہوتا ہے جو صرف غریب مریضوں کے علاج پر خرچ ہوتا ہے۔
جی ہاں، بالکل۔ اگر وہ افورڈ نہیں کر سکتی تو اس کا بل ادا کرنا زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہے۔
زکوٰۃ عام طور پر مسلمان مستحقین کے لیے ہے۔ غیر مسلموں کی مدد صدقہ اور خیرات سے کی جا سکتی ہے۔