آپ کی زکوٰۃ ایک امانت ہے۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ ان لوگوں تک پہنچے جو شرعاً اس کے حقدار ہیں۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
اگر آپ کسی ایسے شخص کو زکوٰۃ دے دیں جو مستحق نہیں (امیر ہے یا پیشہ ور بھکاری)، تو ہو سکتا ہے آپ کا فرض ادا نہ ہو اور آپ کو دوبارہ زکوٰۃ دینی پڑے۔
ان کے حالات دیکھیں۔ کیا ان کے پاس ایسی تعیشات (مہنگے فون، برانڈڈ کپڑے) ہیں جو ان کے غریب ہونے کے دعوے کے خلاف ہیں؟
پڑوسیوں یا مقامی دکانداروں سے ان کے مالی حالات کے بارے میں رازداری سے پوچھیں تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
نرمی سے پوچھیں کہ کیا ان کے پاس سونا یا بچت نصاب سے زیادہ ہے؟ اگر وہ صاحبِ نصاب ہیں تو زکوٰۃ نہیں لے سکتے۔
آپ کو تفتیشی افسر بننے کی ضرورت نہیں، لیکن چند شائستہ سوالات صورتحال واضح کر سکتے ہیں:
اب جب آپ تصدیق کا طریقہ جان گئے ہیں، زکوٰۃ کے 8 مصارف دوبارہ دیکھ لیں یا اپنی رقم کا حساب لگائیں۔
فقہ حنفی کے مطابق، اگر آپ نے پوری تحقیق (اجتہاد) کی تھی اور دیانتداری سے سمجھا کہ وہ غریب ہے، تو زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں۔
جی ہاں، لیکن نرمی سے۔ بجلی کا بل یا فیس کا واؤچر مانگنا تصدیق کا ایک اچھا اور مہذب طریقہ ہے۔
نقد دینا generally بہتر ہے کیونکہ اس سے غریب کو اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے کی آزادی ملتی ہے۔