اپنی جمع شدہ دولت، خاص طور پر سونے کے اثاثوں، زیورات اور بسکٹ پر اللہ کے حکم اور فرضیت کو سمجھیں۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
تاریخی طور پر سونا انسانی تہذیب میں دولت کا معیار رہا ہے۔ اسلام میں سونے کو 'اموالِ نامیہ' (بڑھنے والا مال) سمجھا جاتا ہے۔ اس پر زکوٰۃ ادا کرنا آپ کے باقی مال کو پاک کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دولت صرف امیروں کے پاس جمع نہ رہے بلکہ ضرورت مندوں تک بھی پہنچے۔
نصاب دولت کی وہ کم از کم مقدار ہے جس کا مالک ہونے پر (اگر ایک قمری سال گزر جائے تو) مسلمان پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ سونے کے لیے یہ حد تاریخی طور پر 20 دینار مقرر کی گئی ہے۔
روزمرہ استعمال کے سونے اور سرمایہ کاری کے لیے رکھے گئے سونے کے بارے میں علماء میں معمولی اختلاف ہے۔ تاہم، سب سے محفوظ اور زیادہ قبول شدہ رائے (حنفی مسلک اور دیگر) یہ ہے کہ اگر سونا نصاب کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے، چاہے وہ روزانہ پہنا جانے والا زیور ہو یا لاکر میں رکھا ہوا سونا۔
نوٹ: ہمیشہ صرف خالص سونے کا وزن کریں، زیورات میں لگے ہوئے نگینے، پتھر یا دیگر دھاتیں زکوٰۃ کے وزن میں شامل نہیں ہوتیں۔
ہم نے آپ کی سہولت کے لیے ایک ٹول بنایا ہے جو آج کے سونے کے ریٹس کی بنیاد پر آپ کی زکوٰۃ کی صحیح رقم کا حساب لگاتا ہے۔
زکوٰۃ کیلکولیٹر پر جائیںجی ہاں، سفید سونا دراصل سونا ہی ہوتا ہے جس میں دوسری دھاتیں (جیسے پیلیڈیم) ملائی جاتی ہیں۔ اس میں موجود خالص سونے کی مقدار پر زکوٰۃ فرض ہے۔
نہیں۔ آپ کو ہیرے، یاقوت یا دیگر قیمتی پتھروں کا وزن مائنس کرنا ہوگا۔ زکوٰۃ صرف سونے کے دھاتی وزن پر ہوتی ہے۔
جی ہاں، آپ واجب الادا سونے کی مالیت کا حساب لگا کر اتنی ہی رقم اپنی مقامی کرنسی میں بطور زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں۔