نوجوانوں کی شادی میں مدد کرنا ایک عظیم نیکی ہے۔ جانیں کہ زکوٰۃ کس طرح حلال رشتوں کو آسان بنا سکتی ہے۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
نکاح نصف ایمان ہے۔ غربت کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ زکوٰۃ ان مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
دولہا یا دلہن (جسے زکوٰۃ دی جا رہی ہے) کا مستحقِ زکوٰۃ (غریب) ہونا ضروری ہے۔
زکوٰۃ سے صرف ضروری اخراجات (نکاح، بنیادی سامان) پورے کیے جائیں، نہ کہ مہنگے ہال اور فضول خرچی۔
پیسہ یا سامان مستحق کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔ براہِ راست ہال والے کو پیسے دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی جب تک کہ مستحق کا وکیل نہ بنا جائے۔
زکوٰۃ کی رقم سے نادار جوڑے کے لیے یہ بنیادی چیزیں خریدی جا سکتی ہیں:
اسلام جہیز کے جبری مطالبات کے خلاف ہے۔ زکوٰۃ کا پیسہ لڑکے والوں کی لالچی فرمائشیں (ٹی وی، فریج، موٹر سائیکل) پوری کرنے کے لیے نہیں دیا جانا چاہیے، بلکہ صرف دلہن کی بنیادی ضروریات کے لیے استعمال ہو۔
اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور آج ہی کسی مستحق جوڑے کی مدد کریں۔ پہلے تصدیق ضرور کر لیں۔
جی ہاں، بالکل۔ اگر آپ کی ملازمہ غریب ہے تو اس کی بیٹی کی شادی میں مدد کرنا زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہے۔
بہتر ہے کہ رقم خاندان کو دیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے خرچ کریں۔ اگر آپ خود خرچ کرنا چاہتے ہیں تو ان سے اجازت (وکالت) لیں۔
زکوٰۃ ضروریات کے لیے ہوتی ہے، عیاشی کے لیے نہیں۔ چھوٹی بالیاں تو ٹھیک ہیں لیکن بھاری سیٹ زکوٰۃ کے پیسوں سے مناسب نہیں۔