سماجی مدد

شادی کے لیے زکوٰۃ

نوجوانوں کی شادی میں مدد کرنا ایک عظیم نیکی ہے۔ جانیں کہ زکوٰۃ کس طرح حلال رشتوں کو آسان بنا سکتی ہے۔

2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ

شادی میں مدد کیوں؟

نکاح نصف ایمان ہے۔ غربت کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ زکوٰۃ ان مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اہلیت کی شرائط

1

1. مالی ضرورت

دولہا یا دلہن (جسے زکوٰۃ دی جا رہی ہے) کا مستحقِ زکوٰۃ (غریب) ہونا ضروری ہے۔

2

2. سادگی

زکوٰۃ سے صرف ضروری اخراجات (نکاح، بنیادی سامان) پورے کیے جائیں، نہ کہ مہنگے ہال اور فضول خرچی۔

3

3. ملکیت (تملیک)

پیسہ یا سامان مستحق کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔ براہِ راست ہال والے کو پیسے دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی جب تک کہ مستحق کا وکیل نہ بنا جائے۔

جائز اخراجات

زکوٰۃ کی رقم سے نادار جوڑے کے لیے یہ بنیادی چیزیں خریدی جا سکتی ہیں:

  • سادہ فرنیچر (بستر، الماری)
  • بنیادی برتن اور چولہا
  • شادی کا سادہ جوڑا
  • نئی زندگی شروع کرنے کے لیے نقد رقم
  • چھوٹا ولیمہ (اگر وہ خود استطاعت نہ رکھتے ہوں)

جہیز کے بارے میں نوٹ

اسلام جہیز کے جبری مطالبات کے خلاف ہے۔ زکوٰۃ کا پیسہ لڑکے والوں کی لالچی فرمائشیں (ٹی وی، فریج، موٹر سائیکل) پوری کرنے کے لیے نہیں دیا جانا چاہیے، بلکہ صرف دلہن کی بنیادی ضروریات کے لیے استعمال ہو۔

ایک نئے گھرانے کی بنیاد رکھیں

اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور آج ہی کسی مستحق جوڑے کی مدد کریں۔ پہلے تصدیق ضرور کر لیں۔

عام سوالات

Q.کیا میں اپنی ملازمہ کی بیٹی کی شادی پر زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟

جی ہاں، بالکل۔ اگر آپ کی ملازمہ غریب ہے تو اس کی بیٹی کی شادی میں مدد کرنا زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہے۔

Q.کیا میں شادی ہال کی بکنگ براہِ راست کروا سکتا ہوں؟

بہتر ہے کہ رقم خاندان کو دیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے خرچ کریں۔ اگر آپ خود خرچ کرنا چاہتے ہیں تو ان سے اجازت (وکالت) لیں۔

Q.کیا دلہن کے لیے سونے کا زیور زکوٰۃ سے لے سکتے ہیں؟

زکوٰۃ ضروریات کے لیے ہوتی ہے، عیاشی کے لیے نہیں۔ چھوٹی بالیاں تو ٹھیک ہیں لیکن بھاری سیٹ زکوٰۃ کے پیسوں سے مناسب نہیں۔