مقروض افراد (الغارمین) کی مدد کرنا زکوٰۃ کے 8 مصارف میں سے ایک اہم ترین مصرف ہے۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
غارمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں اور ان کے پاس قرض اتارنے کے لیے (بنیادی ضروریات کے علاوہ) اثاثے نہ ہوں۔
مقروض کے پاس اتنا اضافی مال (نصاب) نہ ہو جس سے وہ اپنا قرض اتار سکے۔
قرض کسی جائز (حلال) مقصد کے لیے لیا گیا ہو، جوئے، شراب یا فضول خرچی کے لیے نہ ہو۔
قرض کی ادائیگی کا وقت آ چکا ہو اور وہ شخص دباؤ میں ہو۔
آپ جائز وجوہات کی بنا پر لیے گئے قرض اتارنے میں مدد کر سکتے ہیں، جیسے:
آپ اپنے ہی مقروض کو اپنا قرض معاف کر کے اسے زکوٰۃ شمار نہیں کر سکتے۔ مثلاً اگر کسی دوست نے آپ کے پیسے دینے ہیں، تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ 'رکھ لو، یہ میری زکوٰۃ ہو گئی'۔ آپ کو پہلے اسے زکوٰۃ (کیش) دینی ہوگی، پھر وہ چاہے تو آپ کا قرض واپس کرے یا نہ کرے۔
اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور کسی مقروض کی مدد کریں۔ یا دیکھیں کہ کیا آپ اپنی زکوٰۃ سے اپنے قرض منہا کر سکتے ہیں۔
جی ہاں، اگر وہ خود ادا کرنے کے قابل نہیں۔ یہ دوہرے ثواب کا باعث ہے۔
جی ہاں، کسی کو سود کی لعنت اور بوجھ سے نکالنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے اصل زر اور سود ادا کیا جا سکتا ہے۔
نہیں۔ ان کی عزتِ نفس بچانے کے لیے بتانا ضروری نہیں۔ آپ اسے تحفہ یا مدد کہہ کر دے سکتے ہیں۔