مصارف: الغارمین

قرض سے نجات کے لیے زکوٰۃ

مقروض افراد (الغارمین) کی مدد کرنا زکوٰۃ کے 8 مصارف میں سے ایک اہم ترین مصرف ہے۔

2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ

غارمین کون ہیں؟

غارمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں اور ان کے پاس قرض اتارنے کے لیے (بنیادی ضروریات کے علاوہ) اثاثے نہ ہوں۔

زکوٰۃ ان کو براہِ راست دی جا سکتی ہے یا ان کی طرف سے ان کے قرض خواہ کو ادا کی جا سکتی ہے۔

اہلیت کی 3 شرائط

1

1. حقیقی ضرورت

مقروض کے پاس اتنا اضافی مال (نصاب) نہ ہو جس سے وہ اپنا قرض اتار سکے۔

2

2. جائز قرض

قرض کسی جائز (حلال) مقصد کے لیے لیا گیا ہو، جوئے، شراب یا فضول خرچی کے لیے نہ ہو۔

3

3. فوری ادائیگی

قرض کی ادائیگی کا وقت آ چکا ہو اور وہ شخص دباؤ میں ہو۔

زکوٰۃ کے لیے جائز قرضے

آپ جائز وجوہات کی بنا پر لیے گئے قرض اتارنے میں مدد کر سکتے ہیں، جیسے:

  • علاج معالجے یا سرجری کے اخراجات۔
  • بنیادی گھریلو اخراجات (کرایہ، راشن، بل)۔
  • شادی کے اخراجات (بنیادی ضروریات، جہیز کی نمائش نہیں)۔
  • کاروباری نقصان (قدرتی آفت یا حادثے کی وجہ سے)۔

اہم استثناء

آپ اپنے ہی مقروض کو اپنا قرض معاف کر کے اسے زکوٰۃ شمار نہیں کر سکتے۔ مثلاً اگر کسی دوست نے آپ کے پیسے دینے ہیں، تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ 'رکھ لو، یہ میری زکوٰۃ ہو گئی'۔ آپ کو پہلے اسے زکوٰۃ (کیش) دینی ہوگی، پھر وہ چاہے تو آپ کا قرض واپس کرے یا نہ کرے۔

کسی کا بوجھ ہلکا کریں

اپنی زکوٰۃ کا حساب لگائیں اور کسی مقروض کی مدد کریں۔ یا دیکھیں کہ کیا آپ اپنی زکوٰۃ سے اپنے قرض منہا کر سکتے ہیں۔

عام سوالات

Q.کیا میں اپنے بھائی کا قرض زکوٰۃ سے اتار سکتا ہوں؟

جی ہاں، اگر وہ خود ادا کرنے کے قابل نہیں۔ یہ دوہرے ثواب کا باعث ہے۔

Q.کیا سودی قرض اتارنے کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

جی ہاں، کسی کو سود کی لعنت اور بوجھ سے نکالنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے اصل زر اور سود ادا کیا جا سکتا ہے۔

Q.کیا بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے؟

نہیں۔ ان کی عزتِ نفس بچانے کے لیے بتانا ضروری نہیں۔ آپ اسے تحفہ یا مدد کہہ کر دے سکتے ہیں۔