زکوٰۃ گائیڈ

صاحبِ نصاب کون ہے؟

ان شرائط کو سمجھیں جن کی بنا پر ایک مسلمان پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔

2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ

مفہوم

صاحبِ نصاب وہ مسلمان ہے جس کے پاس بنیادی ضروریات اور قرض سے زائد اتنی دولت ہو جو نصاب (کم از کم حد) کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور اس پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔

1. حدِ نصاب

آپ کی دولت کم از کم حد (87.48 گرام سونا یا 612.36 گرام چاندی) تک پہنچنی چاہیے۔

2. ایک سال (حول)

اس دولت پر ایک مکمل ہجری سال گزرنا شرط ہے۔

3. نامی (بڑھنے والا)

مال ضرورتِ اصلیہ (گھر، کپڑے، سواری) سے زائد ہو اور اس میں بڑھنے کی صلاحیت ہو۔

کون سا مال شامل ہے؟

شامل ہے (زکوٰۃ فرض ہے)

  • سونا اور چاندی (زیورات/بسکٹ)
  • نقدی (ہاتھ میں یا بینک میں)
  • مالِ تجارت (بیچنے کا سامان)
  • شیئرز اور انویسٹمنٹ
  • پرائز بانڈز / کرپٹو کرنسی

شامل نہیں (زکوٰۃ نہیں ہے)

  • رہائشی گھر (ذاتی استعمال)
  • ذاتی گاڑی/سواری
  • گھر کا فرنیچر اور سامان
  • کپڑے اور ذاتی اشیاء
  • کام کے اوزار (جیسے لیپ ٹاپ، مشینری)

موجودہ نصاب کی اقدار

صاحبِ نصاب بننے کے لیے، آپ کے کل اثاثے (قرض نکال کر) ان میں سے کسی ایک کے برابر ہونے چاہئیں:

Gold Nisab87.48 Grams
Silver Nisab612.36 Grams

کیا آپ صاحبِ نصاب ہیں؟

ہمارے کیلکولیٹر میں اپنے اثاثے درج کریں اور ابھی چیک کریں کہ کیا آپ پر زکوٰۃ فرض ہے۔

عام سوالات

Q.میرے پاس سونا ہے لیکن نقدی نہیں، کیا زکوٰۃ دوں؟

جی ہاں۔ اگر سونے کی مالیت نصاب سے زیادہ ہے تو آپ صاحبِ نصاب ہیں۔ آپ تھوڑا سونا بیچ کر یا کسی اور آمدنی سے زکوٰۃ ادا کریں۔

Q.کیا فطرانہ کے لیے بھی نصاب پر سال گزرنا ضروری ہے؟

نہیں۔ فطرانہ (زکوٰۃ الفطر) کے لیے 'حول' (سال گزرنا) شرط نہیں ہے۔ عید کے دن اگر آپ کے پاس نصاب موجود ہے تو فطرانہ واجب ہے۔

Q.کیا بیوی اپنی زکوٰۃ خود دے گی؟

جی ہاں، اگر بیوی کے پاس اپنے زیورات یا مال ہے جو نصاب تک پہنچتا ہے، تو وہ شوہر سے الگ خود صاحبِ نصاب ہے۔