زکوٰۃ کی تقسیم کے سب سے مؤثر اور شرعی طریقوں پر ایک تقابلی گائیڈ۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
کسی ضرورت مند فرد (رشتہ دار، پڑوسی، یا ملازم) کو خود نقد رقم دینا۔
کسی رجسٹرڈ چیریٹی، این جی او، یا مدرسے کو اپنی طرف سے تقسیم کرنے کے لیے دینا۔
اسلام دونوں طریقوں کی اجازت دیتا ہے۔ کسی ادارے کو دینا 'وکالہ' (ایجنسی) کے تصور پر مبنی ہے، جہاں آپ ادارے کو اپنا 'وکیل' مقرر کرتے ہیں۔ جب آپ قابل اعتماد ادارے کو رقم دیتے ہیں تو آپ کا فرض ادا ہو جاتا ہے۔
"اگر آپ کسی بااعتماد ادارے کو زکوٰۃ دیتے ہیں تو آپ کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ تاہم، یہ یقینی بنائیں کہ ان کے پاس زکوٰۃ کا الگ نظام ہو اور وہ اسے عام صدقات کے ساتھ نہ ملائیں۔"
آپ کے غریب رشتہ دار (بہن بھائی، چچا زاد) ہوں۔ حدیث کے مطابق رشتہ دار کو دینے کا دوگنا ثواب ہے: ایک صدقہ کا اور ایک صلہ رحمی کا۔
آپ بڑے کاموں میں حصہ ڈالنا چاہیں جیسے کینسر ہسپتال، کڈنی سینٹر، یا یتیم خانے جنہیں چلانے کے لیے اجتماعی فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔
ادائیگی کا طریقہ طے کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کتنی رقم دینی ہے۔ ہمارے ٹول سے درست حساب لگائیں۔
ضرورت مند رشتہ داروں کا پہلا حق ہے۔ اگر آپ کے قریبی رشتہ دار خوشحال ہیں، تو مدارس یا ہسپتال بہترین آپشن ہیں۔
زیادہ تر ادارے انتظامی اخراجات (تقریباً 12.5٪) لیتے ہیں۔ اسلام میں 'عاملین' (زکوٰۃ جمع کرنے والے) کے مد میں یہ جائز ہے۔
ادارے کی سالانہ رپورٹس، شریعہ بورڈ، اور آڈٹ رپورٹس دیکھیں۔ پاکستان میں الخدمت، انڈس ہسپتال، یا شوکت خانم جیسے نامور اداروں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔