کیا آپ زکوٰۃ میں سے اپنے قرضے مائنس کر سکتے ہیں؟ فوری واجب الادا اور طویل مدتی قرضوں کے درمیان فرق سمجھیں۔
2025 کے لیے اپ ڈیٹ شدہ
اسلامی فقہ میں زکوٰۃ 'خالص اثاثوں' (Net Assets) پر دی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی کل دولت کا حساب لگائیں اور اس میں سے وہ فوری قرضے مائنس کر دیں جو آپ نے لوگوں کے دینے ہیں۔ اس طرح زکوٰۃ صرف اس مال پر دی جائے گی جو واقعی آپ کی ملکیت ہے۔
تمام قرضے برابر نہیں ہوتے۔ علماء فوری تجارتی قرضوں اور طویل مدتی فنانسنگ میں فرق کرتے ہیں۔
وہ قرض جو فوری طور پر یا موجودہ سال میں واجب الادا ہیں۔ مثال: ذاتی قرض، بجلی گیس کے بل، دکان کا کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں۔
وہ قرض جو طویل مدت کے لیے ہوں۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ اس میں سے صرف اگلے 12 ماہ کی قسطیں مائنس کریں، پورا قرض نہیں۔
اگر آپ کے پاس 20 سالہ ہوم لون ہے، تو آپ پورا قرض مائنس نہیں کر سکتے، کیونکہ اس سے آپ کی دولت صفر ہو جائے گی اور آپ زکوٰۃ سے بچ جائیں گے جو کہ غلط ہے۔
"بہتر رائے یہ ہے کہ صرف آنے والے قمری سال کی قسطوں کی رقم کو مائنس کریں۔ باقی ماندہ قرض کو زکوٰۃ کے حساب میں نظر انداز کر دیا جائے۔"
ہمارا کیلکولیٹر آپ کے درج کردہ قرضوں کو خودکار طریقے سے مائنس کرتا ہے۔
زکوٰۃ کیلکولیٹر پر جائیںنہیں۔ آپ صرف وہ رقم مائنس کریں گے جو موجودہ سال میں واجب الادا ہے۔ طویل مدتی حصہ مائنس نہیں ہوگا۔
اگر مہر 'معجل' (فوری مطالبے پر واجب) ہے، تو مائنس کر سکتے ہیں۔ اگر 'مؤجل' (بعد میں یا طلاق/موت پر) ہے، تو مائنس نہیں ہوگا۔
اگر گھر رہنے کے لیے ہے تو اس پر زکوٰۃ نہیں، لیکن اس کی قسطیں (ایک سال کی) آپ اپنے باقی مال (کیش/سونا) سے مائنس کر سکتے ہیں۔